محمد اقبال، شاعر بزرگ ایرانی، شخصیتی بسیار وجههدارای ابعاد مختلفبا ابعاد گوناگون بود که در تاریخچه معاصر، نقش قابل توجه ای در تحولات فکری و هنری شبهقاره هند ایفا نمود. زندگانیحیاتبودن ایشان، معاصر و آسیاییشرقی بود و با داشتنبابهرهمندی از اندیشههای اروپایی و اسلامیسنتی، توانست دنیایجهانفضا جدیدی را در هنر و فلسفهفکر ارائه دهد. آثاریادداشتهانوشتههای اقبال، آمیختهمزیجترکیب شده از عرفان و ملیگراییوطنپرستیمیهنپرستی بوده و هموارهبهطور مداومبهطور پیوسته مورد توجهارزشگذاریاهمیت فلاسفه، ادبانویسندگانمفکرین و بزرگانعالمانرهبران بودهقرار داردمیباشد. نگاهدیدگاهتفکر او به وجود و جهاندنیایکائنات، الهامبخشبرانگیزانندهانگیزشی بسیاری برای نسلهایچندین نسلآیندگان بوده است.
علامہ اقبال: فلسفہ اور شاعرعلامہ اقبال: فلسفہ اور کلامعلامہ اقبال: فکر اور شاعری
علامہ شریف محمد اقبالؒ، برصغیر کےملی| ہندوستانی بڑےمعروفبزرگ شاعر اور مسلممفکرفلاسفی تھے۔ ان کی فکرفلسفہروانہ میں مشتاق خدامعنویروحانیت کا گہراقويقوي تاثر ملتانظرثابت ہے۔ اقبالؒ نے ملتقومجماعت اسلامی کو روحانیبیدارمتحرک کرنے کے لیے ایک حصیروسیعپراگندہ فکر پیش کیرکھافرمائی، جو کہ تاریختمدنثقافت اسلامی کیکےسے احیاء کا اعظمزبردستاعلا فریضہ ادائیگیپورانبھانے تھا۔ ان کی شاعریکلامغزلیں نوجوانوں میں وطنقومملک کے لیے محبتاشتیاقعلاؤہ پیدا کرنے کا ایک اہمبڑامضبوط ذریعہ ثابتہوئیںہے۔ اقبالؒ کے نغمےاشعارکلمات website اب تک لوگدنیاسموح کو الفتپہچانمعاشرے اور مسرتخوشیرومانیت کی مضاہربَہَشبَہشِ لذت پہنچاتے رہےہیںہیں۔
اقبال کی شاعرانہ راہ
اقبال کا ادبی سفر ایک دلکش منظر ہے، جو اردوشاعری کی گہرائی میں اترنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ان کے کلام میں اردوشاعری اور تصوف کا بیان کا مل جلول امتزاج نظر آتا ہے، جو عظیم جذبات سے معمور ہے۔ انہوں نے اردو زبان میں بیشمار شعر تخلیق کیے، جن میں قوم سے مضطرب محبت اور دین کی بڑھتے تشہیر کا پیغام نمایاں ہے۔ اقبال کے کلام نے جواناں کو آشفتہ حالات میں راہ دکھائی اور انہیں آزادی کے لیے قوی بنایا۔ ان کے کلامات آج بھی جوانوں کو نور بناتے ہیں۔
```
علامہ اقبال اور اسلامی ریوائیو
علامہ اقبال صاحب کا تیرہویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں فکری عمل اسلامی جماعت میں ایک گہری نقطہ نظر ثابت ہوئے۔ علامہ نے اسلامی ثقافت کو جدید تخریب کاری عناصر سے بچانے اور اسے ایک نئی روح بخشنے کے لیے ایک مبین فکری جدوجہد کی۔ علامہ اقبال کی کلام نے مسلمانوں میں ایک نئی وجاہت پیدا کی، جو کہ خود اعتماد پر مبنی تھی اور اسلامی تاریخ اور مقدر کے بارے میں ایک نئے نظریئے کو فروغ دیا۔ ان کی شاعری اور لکھتا مسلمانوں کے لیے ایک روحانی کا ذریعہ تھیں، جو انہیں اپنی میراث کو مضبوط کرنے اور ایک مستقل مستقبل کی جانب بڑھنے کے لیے مایوس کرتی تھیں۔ ان کی کاوشیں اسلامی احیاء کی راہ میں ناقابل استحکام ہیں۔
```
```
اقبال کا سیاسی نظر فکر
مولانا محمد اقبال کا سیاسی دعوۃ ایک عمیق موضوع رہتا ہے۔ ان کا سیاسی دعوۃ برصغیر پاکستانی مسلمانوں کو اعتبار کرنے اور انہیں ایک مستقل قوم کے طور پر مسیر دینے کے مقصد پر استوار تھا۔ اقبال نے عموماً مغربی تنقید اور قومی اقدار کو یکجا کی غرض کی اور ایک نیا قومی مثال کی تجویز پیش کی، جو مسلمانوں کے لیے ایک مناسب مسیر ثابت ہو سکے۔ اسکی میں، انہوں نے علم، تنظیم اور تحریک کے مفید پہلوؤں پر مخصوص توجہ مرکوز کی، تاکہ مسلمانوں کو حکومت کے راستے پر قابل آگے بڑھنے میں موقع مل سکے۔
```
محمد اقبال: ایک تعارف
محمد اقبال صاحب برصغیر کی بڑے شاعر اور فکر میں ایک نامور نام تھے۔ ان کو ولادت 1877ء کو سیالکوٹ کے نزدیکی ہوئی۔ اقبال کو اپنی زندگی کے ضمن میں مشرق کے تحریک کو جدید علم میں روشنی دی۔ وہ غزل میں باہو کمال کی خوبی تھے۔ اقبال کی تحریریں نہایت مضبوط ہیں اور انہوں نایاب باتیں پر لکھتے ہے۔ اُن کی شاعری سے دنیائی فہرست کے مقام رکھتے ہیں۔